منڈگوڈ30؍(ایس او نیوز ؍ نذیر تاڑپتری ) کرناٹک دلت سنگھرش سمیتی کی جانب سے یہاں احتجاجی مظاہرہ کرتے ہوئے دلت اقلیتی طبقات و پسماندہ ذاتوں کے غریبوں اور کسانوں کو سماجی انصاف اور آئینی حقوق سمیت مختلف مطالبات کو لے کر بذریعہ تحصیلدار وزیر اعظم اور وزیر اعلیٰ کو یاداشت پیش کی گئی۔ یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ سرکاری پرائمری اسکولوں کو بلاوجہ اور غیر ضروری اسباب کی بناء پر بند نہ کیا جائے اور پرائمری اسکولوں میں ایل کے جی ، یو کے جی کاا نگلش میڈیم میں آغاز کیا جائے تا کہ مالدار بچوں کے طرز پر غریب بچے بھی انگریزی سیکھ کر سماج میں آگے بڑھیں ۔ یاداشت میں بتایا گیاکہ بی پی ایل کارڈ رکھنے والے غریبوں کو حکومت نے یونٹ نظام جاری کیا ہے جس سے انہیں بے حد پریشانی کا سامنا ہے اس لئے اس نظم کو رد کر کے حسب معمول 30کلو اجناس تقسیم کئے جائیں۔ اس کے علاوہ پرائمری اور ہائی اسکولوں میں دوپہر کا گرم کھانا تیار کرنے نامزد عملہ کو نکلا کر مخصوص مقام سے کھانا سپلائی کرنے کا فیصلہ بھی نامناسب ہے ۔ یادداشت میں مطالبہ کیا گیا کہ حکومت کاویری اور مہادائی ندیوں کے تعلق سے وزیر اعظم پر دباؤ ڈالے کہ وہ مداخلت کرتے ہوئے ان تنازعات کو حل کریں اور 2016-17سال میں منڈگوڈ تعلقہ سمیت شمالی کنڑا ضلع میں بارش کی کمی سے فصلیں سوکھ چکی ہیں اس لئے مرکزی و ریاستی حکومتیں کسانوں کو معاوضہ ادا کریں ۔ احتجاج کی قیادت سمیتی کے ضلع سنچالک فقیرپا، ضلع جنرل سکریٹری تروپتی کونڈلی، خازن بسونتپامڈلی ، بسواراج ہریجن ، راجو بھودوی و دیگر نے کی۔